ہفتہ 31 جنوری 2026 - 18:24
غزہ پر ’’بورڈ آف پیس‘‘؛ امن کے نام پر دجالی سازش

حوزہ/یہ کیسی امن کی دعوت ہے جس کی میز پر قاتل بیٹھا ہو اور مقتول کو خاموشی کا حکم دیا جائے؟ جس فورم کی پیشانی پر ’’امن‘‘ لکھا ہو، مگر اس کی سیاہی غزہ کے بچوں کے خون سے بنائی گئی ہو؟

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| یہ کیسی امن کی دعوت ہے جس کی میز پر قاتل بیٹھا ہو اور مقتول کو خاموشی کا حکم دیا جائے؟ جس فورم کی پیشانی پر ’’امن‘‘ لکھا ہو، مگر اس کی سیاہی غزہ کے بچوں کے خون سے بنائی گئی ہو؟

آج ’’غزہ پر بورڈ آف پیس‘‘ محض ایک سفارتی ادارہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی ڈرامہ ہے—ایسا بیانیہ جو قبضے کو قانونی، مزاحمت کو جرم، اور مظلوم کی آہ کو شور قرار دینے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ عنوان نیا ہے، مگر چال وہی پرانی دجالی ہے۔

🔹 دجالی امن کا خون آلود خاکہ:

اس منصوبے کا مرکز وہ عالمی طاقت ہے جس کے ہاتھ ویتنام، عراق، افغانستان، لیبیا، شام، لبنان، یمن اور صومالیہ سے ہوتے ہوئے آج غزہ تک انسانیت کے خون سے لتھڑے ہوئے ہیں۔ جس اتحاد کی قیادت ڈونلڈ ٹرمپ جیسے جنگ فروش، نسل کش پالیسیوں کے علمبردار کے ہاتھ میں ہو، اور جس میں بنیامین نتن یاہو جیسے خونخوار قاتل، بچوں کے قاتل، اور کھلے انسانیت دشمن شریکِ کار ہوں—وہ اتحاد امن نہیں بانٹتا، وہ قتل کو پالیسی، جبر کو ضابطہ، اور طاقت کو قانون بناتا ہے۔ ایسے ’’امن‘‘ میں مظلوم کی آہ، ماں کی چیخ اور بچے کا لہو شامل نہیں ہوتا؛ اس میں صرف قابض کی بقا، قاتل کی تطہیر اور مجرم کی ساکھ بچانے کی منظم تدبیر ہوتی ہے۔ یہ امن نہیں، عالمی سطح پر ظلم کو

یہ باقاعدہ ظلم کو نظام میں ڈھالنے کا اعلان ہے—ایسا اعلان جس میں انسانیت کی آخری رمق بھی روند دی جاتی ہے۔

🔹غزہ کوئی سادہ علاقائی تنازع نہیں؛ یہ ضمیرِ انسانی کی عدالت ہے، جہاں آج پوری دنیا کٹہرے میں کھڑی ہے۔ یہاں ہسپتال صرف عمارتیں نہیں تھے، وہ زخمیوں کی آخری پناہ تھے—جو بمباری میں مٹی ہو گئے۔ اسکول محض درسگاہیں نہیں تھے، وہ بچوں کے خواب تھے—جو ملبے تلے دفن ہو گئے۔ اور بچے؟ وہ بچے جن کی لاشیں اب ناموں کے ساتھ نہیں، اعداد کے ساتھ خبروں میں گنی جاتی ہیں۔

ایسے میں ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا قیام اس سفاک حقیقت کا اعلان ہے کہ اس دنیا میں طاقتور ہی قاتل بھی ہے اور منصف بھی، اور کمزور کے حصے میں صرف یہ حکم آتا ہے کہ وہ ’’امن‘‘ کے نام پر خاموشی اختیار کرے، سر جھکائے، اور اپنے مقتول بچوں کی قبروں پر بھی سوال نہ اٹھائے۔ یہ امن نہیں، اخلاقی شکست کا مطالبہ ہے؛ یہ وہ امن ہے جس میں مظلوم سے اس کا حقِ چیخ بھی چھین لیا جاتا ہے، اور قاتل کو عالمی سندِ اخلاق عطا کر دی جاتی ہے۔

🔹سلامتی کس کی؟ فنا کس کا؟

اس منصوبے کے اندرونی خدوخال کسی پردے میں نہیں، سب کچھ کھلے لفظوں میں سامنے ہے۔ اصل ہدف اسرائیل کی ناجائز حیثیت کو عملی اور سفارتی قبولیت دلانا ہے؛ اس کے بعد فلسطینی مزاحمت—خصوصاً حماس—کو غیر مسلح یا غیر مؤثر بنا کر قبضے کو مستقل حقیقت میں ڈھال دینا؛ اور پھر عرب و مسلم ریاستوں سے خطیر رقوم لے کر انہیں ’’امن کے ضامن‘‘ کے طور پر پیش کرنا، جبکہ زمین پر فلسطینیوں کی سانس آہستہ آہستہ گھونٹ دی جائے۔ یہ وہی منطق ہے جس میں جلاد کے ہاتھ مضبوط کیے جاتے ہیں اور مقتول کو ’’امن‘‘ کی تلقین کر کے خاموش رہنے کا حکم سنایا جاتا ہے۔

🔹ادارہ، دائرۂ کار اور اصل مقصد:

یہ بورڈ بظاہر جنگ بندی کے بعد تعمیرِ نو، انسانی امداد اور استحکام کے خوش نما وعدوں کے ساتھ سامنے آیا۔ ابتدا میں اسے غزہ میں اسرائیل–حماس جنگ کے بعد بحالی کی نگرانی کے لیے متعارف کرایا گیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبے کا حصہ بتایا گیا۔ مگر بہت جلد اس کی سمت بدل دی گئی: دائرۂ کار وسیع ہوا، اختیارات بڑھے، اور اسے عالمی تنازعات کے حل کے ایک جامع فریم ورک کے طور پر پیش کیا جانے لگا—یہاں تک کہ بعض حلقوں میں اسے اقوامِ متحدہ کے ممکنہ متبادل کے طور پر بھی بیان کیا گیا۔ یہ وسعت انصاف کی توسیع نہیں، بلکہ اختیار کے ارتکاز کی علامت ہے؛ ایک ایسا ارتکاز جس میں فیصلے طاقت کے مراکز میں ہوتے ہیں اور قیمت کمزور ادا کرتا ہے۔

🔹اقوامی جواز اور مسلم ممالک کی شمولیت — اصولوں کی نیلامی:

سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کو ڈھال بنا کر اس فورم کو نام نہاد بین الاقوامی جواز عطا کرنے کی کوشش کی گئی، اور اسی کاغذی جواز کے سہارے متعدد ممالک کو اس قافلے میں شامل کر لیا گیا۔ ان میں پاکستان سمیت کئی مسلم ریاستوں کے نام لیے جاتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہرگز نہیں کہ شمولیت ہوئی یا نہیں—اصل سوال یہ ہے کہ کس قیمت پر، اور کس ایجنڈے کے تحت؟ اگر کسی مسلم ریاست سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ ایسے فورم کا حصہ بنے جس کا عملی نتیجہ قابض کی سلامتی، قاتل کی تطہیر، اور مظلوم کی خاموشی ہو، تو یہ محض سیاسی غلطی نہیں بلکہ اصولی خودکشی ہے۔

یہ شمولیت فلسطین سے غداری ہی نہیں، بلکہ اپنی تاریخ، اپنے نظریے اور اپنے عوامی ضمیر کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ریاستیں اپنے شہداء کے خون، اپنے آئین کے دعووں، اور اپنی اخلاقی ساکھ کو ایک میز پر رکھ کر گروی رکھ دیتی ہیں۔ ایسا ’’امن‘‘ قبول کرنا دراصل یہ تسلیم کرنا ہے کہ ظلم اگر عالمی طاقت کے ہاتھ میں ہو تو جائز ہے، اور مظلوم اگر کمزور ہو تو اسے بولنے کا حق بھی نہیں۔ تاریخ ایسے فیصلوں کو معاہدہ نہیں کہتی—تاریخ انہیں رسوائی کے نام سے یاد رکھتی ہے۔

🔹طاقت کے چہرے اور مفادات:

بورڈ کی ساخت بھی معنی خیز ہے: ٹونی بلیئر، مارکو روبیو اور جیرڈ کشنر جیسے نام ماضی میں ’’امن‘‘ کے منصوبوں کے ذریعے طاقت کے توازن کو قابض کے حق میں موڑتے رہے ہیں۔ مستقل نشست کے لیے اربوں ڈالر کی شراکت کی خبریں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہاں انصاف نہیں، سرمایہ فیصلہ کرے گا۔

🔹قرآن کا معیارِ امن:

قرآن ظلم کے ساتھ مصالحت نہیں سکھاتا: وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ (ہود: 113)

اور عدل کا واضح حکم دیتا ہے:كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ (النساء: 135)

ان آیات کی روشنی میں وہ امن جو عدل سے خالی ہو، محض فریب ہے—ایک خوش نما پردہ، جس کے پیچھے جبر کی مشینری چلتی ہے۔

🔹حقیقت یہ ہے کہ ’’غزہ پر بورڈ آف پیس‘‘ کو محض ایک امدادی یا تعمیری فورم سمجھنا سادہ لوحی نہیں، خود فریبی ہے۔ یہ دراصل ایک کھلی سیاسی آزمائش ہے—اور سب سے بڑھ کر مسلم دنیا کے ایمان، غیرت اور اخلاقی وقار کی آزمائش۔ اگر حکمران اس نام نہاد امن کے سراب میں مبتلا ہو کر مظلوم کے حقِ آزادی، حقِ مزاحمت اور حقِ زندگی کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں تو یہ محض ایک سفارتی لغزش نہیں ہوگی، بلکہ تاریخی جرم ہوگا—ایسا جرم جسے نہ وقت معاف کرے گا اور نہ آنے والی نسلیں۔

آج ضرورت کسی نئے بورڈ، کسی نئی قرارداد یا کسی نئی میز کی نہیں؛ آج ضرورت جرأتِ انکار کی ہے—اس دوٹوک انکار کی جو ظلم کے ہر لبادے کو چاک کر دے۔ اس انکار کی جو غزہ کے ملبے سے اٹھتی ہوئی آہوں، ماں کی سسکیوں اور بچوں کی خاموش لاشوں کی زبان بن کر دنیا کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ دے۔

امن صرف وہ ہے جس میں غزہ آزاد ہو، قاتل محاسبے کے کٹہرے میں کھڑے ہوں، اور مظلوم کی مزاحمت کو جرم نہیں بلکہ فطری اور شرعی حق تسلیم کیا جائے۔ اس کے سوا ہر ’’امن‘‘ محض دجالیت ہے—اور دجالیت کے ساتھ کھڑا ہونا دراصل خود کو تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے مترادف ہے، جہاں نہ عذر سنے جاتے ہیں اور نہ تاویلیں قبول ہوتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha